"بڑی فیسیں، بڑی عمارتیں — لیکن ہیلتھ سنٹر کہاں ہیں؟"


 کیا ہمارے تعلیمی ادارے محفوظ ہیں؟ — ایک نظرانداز شدہ حقیقت



حالیہ دنوں میں ایک استاد کی دورانِ لیکچر دل کا دورہ پڑنے سے موت نے پورے معاشرے کو چونکا دیا۔

لیکن یہ واقعہ صرف ایک اسکول یا استاد کی عزت تک محدود نہیں — اصل سوال یہ ہے:

کیا ہمارے اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں؟

صرف اسکول نہیں — سب ادارے ذمہ دار ہیں

ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ چھوٹے اسکولوں تک محدود ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ بڑے بڑے پرائیویٹ اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں —

جہاں لاکھوں روپے سالانہ فیسیں لی جاتی ہیں —

وہاں بھی ایک بنیادی ہیلتھ کیئر سینٹر یا ایمرجنسی میڈیکل ٹیم موجود نہیں ہوتی۔

---

 فیسوں کا پہاڑ — لیکن صحت کی سہولت صفر!

طلبہ اور والدین ہر ماہ ہزاروں روپے دیتے ہیں —

لیکن اس کے بدلے میں انہیں بہترین کلاس روم، اے سی، اور وائی فائی تو مل جاتا ہے —

مگر ایک ڈاکٹر یا فرسٹ ایڈ سینٹر دینے میں ادارے ناکام ہیں۔

یہ کہاں کا انصاف ہے؟

---

ہر کیمپس میں ایمرجنسی سینٹر — کیوں ضروری ہے؟

 اچانک دل کا دورہ، چوٹ، یا بیماری — کسی کو بھی کہیں بھی ہو سکتی ہے۔

فوری میڈیکل مدد کئی جانیں بچا سکتی ہے۔

 اسکولوں اور کالجوں میں ہزاروں طلبہ اور اساتذہ کی زندگی کا دار و مدار اسی سہولت پر ہے۔

---

 صرف سہولت نہیں — روزگار کا موقع بھی

یہ ایمرجنسی سینٹرز نہ صرف حفاظت دیں گے بلکہ

ہزاروں میڈیکل ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

ہزاروں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف جو بے روزگار ہیں،

انہیں اپنے ہی ملک میں کام کا موقع ملے گا۔

---

 حل کیا ہے؟

 قانونی پابندی: ہر اسکول، کالج، اور یونیورسٹی کے لیے لازمی ہو کہ کیمپس میں کم از کم دو ڈاکٹرز یا ایک میڈیکل ٹیم موجود ہو۔

 بجٹ مختص کریں: لاکھوں روپے فیس سے کچھ فیصد حصہ ہیلتھ کیئر سہولت کے لیے نکالا جائے۔

 ایمرجنسی پلاننگ: طلبہ اور اسٹاف کے لیے سالانہ ایمرجنسی ڈرل اور میڈیکل چیک اپ لازمی ہوں۔

---

وقت بدلیں — اس سے پہلے کہ کوئی اور قیمتی جان جائے

آج ایک استاد گیا — کل کوئی طالب علم بھی جا سکتا ہے۔

ہمیں یہ سبق آج سیکھنا ہوگا —

کہ حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے